بی ایم سی کا 80 ہزار کروڑ کا بجٹ: عوامی سہولیات، تعلیمی تحفظ اور خواتین کے حقوق پر سنگین سوالات — قمر جہاں صدیقی کی سخت تنقید
- MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز
- 4 hours ago
- 3 min read

25 April 2026
ممبئی: میونسپل کارپوریشن کے حالیہ اجلاس میں کانگریس کارپوریٹر قمر جہاں صدیقی نے بی ایم سی کے تقریباً 80 ہزار کروڑ روپے کے بجٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھاری فنڈز کے باوجود شہر میں بنیادی سہولیات کی حالت انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ کے اعداد و شمار اور زمینی حقیقت کے درمیان گہرا تضاد پایا جاتا ہے، جو شہری انتظامیہ کی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے اجلاس میں نشاندہی کی کہ ایک طرف تشہیر کے بجٹ کو صفر سے بڑھا کر 50 ملین روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ طلبہ کی ٹریننگ کے لیے مختص رقم 120 ملین سے کم کر کے صرف 1 ملین روپے کر دی گئی۔ قمر جہاں صدیقی نے اسے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا حکومت کی توجہ عوامی فلاح پر ہے یا اپنی تشہیر پر۔
سڑکوں کی بدحالی پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال 12 ہزار کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود سڑکیں ایک سال بھی نہیں چل پاتیں، بار بار کھدائی اور ناقص کام کی وجہ سے گڑھے پیدا ہو رہے ہیں اور شہری حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو “ترقی” کے بجائے “مالیاتی ری سائیکلنگ” قرار دیا۔
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے قمر جہاں صدیقی نے کہا کہ شہر میں لاکھوں لیٹر پانی روزانہ ضائع ہو رہا ہے جبکہ وارڈ نمبر 33 میں کم پریشر اور رات کے اوقات میں پانی کی فراہمی خواتین کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹینکر سسٹم پر انحصار کم کر کے مستقل واٹر نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جائے۔
تعلیمی شعبے میں انہوں نے اسکولوں کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی اسکول بغیر مناسب اسٹرکچرل آڈٹ کے چل رہے ہیں، جو طلبہ کی جانوں کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر اسکول کی منظوری کے ساتھ ذمہ دار افسر کا نام درج کیا جائے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں جوابدہی طے ہو سکے۔ ساتھ ہی گزشتہ 17 سالوں سے آرٹ اساتذہ کی بھرتی نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔
غذائیت کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا کہ 200 کروڑ روپے مختص ہونے کے باوجود اسکولوں میں بچوں کو معیاری غذا فراہم نہیں کی جا رہی اور مینو کے مطابق دال کے بجائے صرف چاول دیے جا رہے ہیں، جس پر انہوں نے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
خواتین کے حقوق کے معاملے پر قمر جہاں صدیقی نے کہا کہ کنٹریکٹ پر کام کرنے والی خواتین کو میٹرنٹی لیو نہ دینا سراسر ناانصافی ہے اور اسے فوری طور پر قانونی حق بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے پیٹرنٹی لیو، مینسٹرول ہیلتھ پالیسی اور اسپتالوں میں خواتین کی میتوں کے پوسٹ مارٹم کے دوران خاتون عملے کی موجودگی کو بھی لازمی قرار دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے شہر میں موجود تھیٹرز اور دیگر عوامی مقامات کی سیکیورٹی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد کی موجودگی کے باوجود حفاظتی اقدامات ناکافی ہیں۔ اس کے علاوہ وارڈ 33 میں سڑکوں کی خستہ حالی، کھلی نالیوں، سینئر شہریوں کے حادثات اور عوامی بیت الخلا کی خراب حالت کو فوری حل طلب مسائل قرار دیا۔
اجلاس کے اختتام پر قمر جہاں صدیقی نے کہا کہ “سچ مخالفت نہیں بلکہ اصلاح کی بنیاد ہوتا ہے” اور میونسپل انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ بجٹ کو محض کاغذی کارروائی نہ رکھا جائے بلکہ اسے حقیقی معنوں میں عوامی بہتری کا ذریعہ بنایا جائے تاکہ ممبئی کے شہریوں کو محفوظ اور بہتر زندگی فراہم کی جا سکے۔
