دھاراوی ماسٹر پلان پر الزامات مخالفین کی لاعلمی کا نتیجہ : راہل شیوالے جھوٹے پروپیگنڈے اور خود غرض سیاست کوچھوڑ کر ترقی کا ساتھ دیں
- MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز

- Jun 3
- 2 min read

3 Jun 2025
ممبئی، دھاراوی ری ڈیولپمنٹ ماسٹر پلان پر لگائے جا رہے الزامات ناکافی معلومات اور مخالف جماعتوں کی لاعلمی کا نتیجہ ہیں، یہ بات سابق رکن پارلیمان راہل شیوالے نے کہی۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک تفصیلی پوسٹ میں شیوالے نے اپوزیشن کی تنقید کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اس منصوبے کی حقیقت عوام کے سامنے رکھی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ مہا یوتی حکومت جھوٹے پروپیگنڈے اور خود غرض سیاست کو پیچھے چھوڑ کر دھاراوی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔حال ہی میں مخالفین کے ایک وفد نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور مقامی رکن اسمبلی جیوتی گائیکواڑ نے بھی ماسٹر پلان پر سوالات اٹھائے، جس پر راہل شیوالے نے سوشل میڈیا کے ذریعے جواب دیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اپوزیشن کو پہلے مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں، اس کے بعد ہی رائے دینی چاہیے۔ شیوالے کا کہنا ہے کہ سابق کانگریس حکومت کے دور میں سیاسی بے حسی کے سبب دھاراوی کا منصوبہ التوا کا شکار رہا، لیکن مہا یوتی حکومت کی کوششوں سے اب اس میں تیزی آئی ہے، جسے اپوزیشن دوبارہ روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔اپنے بیان میں راہول شیوالے نے وضاحت کی کہ ماسٹر پلان میں فی الحال صرف دھاراوی کے دوبارہ ترقی یافتہ علاقے میں عوامی سہولیات، کھلی جگہیں اور تعمیر کے لیے دستیاب زمین کا عمومی خاکہ پیش کیا گیا ہے، اس لیے اس مرحلے پر اعتراضات یا تجاویز کی گنجائش نہیں بنتی۔ جب دھاراوی کا تفصیلی ڈیولپمنٹ پلان تیار کیا جائے گا، تب ایسی تجاویز اور اعتراضات کا مکمل طور پر جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ ماسٹر پلان میں موجودہ ایف ایس آئی (FSI) اور ٹی ڈی آر (TDR) کے اصولوں کو شامل کیا گیا ہے اور حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ ہر دھاراوی باشندے کو اس منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔راہل شیوالے نے سوال اٹھایا کہ "مہاوکاس آگھاڑی حکومت کے دوران کانجور مارگ کی زمین میٹرو کار شیڈ کے لیے محفوظ قرار دی گئی تھی، تو اب اچانک وہ زمین محنت کشوں کے گھروں کے لیے غیر محفوظ کیسے ہو گئی؟ کیا آپ عام آدمی کے گھر کے خلاف ہیں؟مزید برآں، انہوں نے یاد دلایا کہ دھاراوی کی نمک بنانے والی زمینوں پر سستے گھروں کی تعمیر کی اسکیمیں سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان اور آنجہانی وزیر ایکناتھ گائیکواڑ کے دور میں بھی تجویز کی گئی تھیں۔ 2004 میں اس وقت کی حکومت نے اس زمین پر مستحقین کو 300 مربع فٹ کے مکانات دینے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔آخر میں راہل شیوالے نے یقین دہانی کرائی کہ چاہے اپوزیشن کتنے ہی الزامات یا پروپیگنڈے کرے، مہا یوتی حکومت دھاراوی کے ری ڈیولپمنٹ منصوبے کو مکمل کرے گی، اور اس میں ہر فرد کو شامل کیا جائے گا۔









