سماج وادی پارٹی کو وارڈ نمبر 138 میں زبردست سیاسی جھٹکا معروف سوشل ورکر عرفان خان کانگریس میں شامل، امیدوار سفیان ونو کے حق میں طاقت کا مظاہرہ
- MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز
- 26 minutes ago
- 2 min read

02 January 2026
ممبئی (م ٹائمز )
وارڈ نمبر 138 میں انتخابی معرکے سے قبل سماج وادی پارٹی کو اس وقت بڑا اور فیصلہ کن سیاسی جھٹکا لگا جب علاقے کے معروف سوشل ورکر عرفان خان نے اپنے سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کانگریس امیدوار سفیان ونو کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا اور اپنی نامزدگی واپس لے لی۔
عرفان خان کی کانگریس میں شمولیت کو وارڈ 138 کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے سماج وادی پارٹی کی انتخابی حکمتِ عملی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
اس موقع پر عرفان خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ:
“میں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو سیاست پر فوقیت دی ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس بار وارڈ 138 کے لیے ایک پڑھے لکھے، ایماندار اور عوامی مسائل سے جڑے امیدوار کو میدان میں اتارا ہے۔ سفیان ونو ایک وژنری لیڈر ہیں، جو صرف وعدے نہیں بلکہ عملی کام پر یقین رکھتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وارڈ 138 کو ذاتی سیاست، کھوکھلے نعروں اور نمائشی قیادت سے نجات دلانے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ ان کے تمام کارکن اب متحد ہو کر کانگریس امیدوار سفیان ونو کی تاریخی کامیابی کے لیے گھر گھر جا کر مہم چلائیں گے۔
کانگریس امیدوار سفیان ونو نے عرفان خان اور ان کے ساتھیوں کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے کہا:
“عرفان خان جیسے عوامی خدمت گزار کی حمایت میرے لیے اعزاز بھی ہے اور بڑی ذمہ داری بھی۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ وارڈ 138 کے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے پوری ایمانداری، شفافیت اور جرات کے ساتھ کام کروں گا۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق عرفان خان کی کانگریس میں شمولیت نے وارڈ نمبر 138 کے انتخابی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور سماج وادی پارٹی کی پوزیشن کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔






