top of page

ڈیپ ٹیک، مصنوعی ذہانت اور جامع اختراع سے ہی "وکست بھارت 2047" کا خواب پورا ہوگا: ڈاکٹر آر اے ماشیلکر،فکی (FICCI) لیجنڈز سیریز میں خطاب؛ "More from Less for More" کے فلسفہ بھارت کی عالمی تکنیک

  • Writer: MimTimes मिम टाइम्स  م ٹائمز
    MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز
  • 2 days ago
  • 3 min read

14 July 2026


ممبئی (م ٹائمز ) پدم وبھوشن ڈاکٹر رگھوناتھ اے ماشیلکر، فیلو آف دی رائل سوسائٹی اور سابق ڈائریکٹر جنرل، سی ایس آئی آر نے کہا ہے کہ ڈیپ ٹیک، مصنوعی ذہانت (AI) اور جامع اختراع (Inclusive Innovation) ہی "وکست بھارت 2047" کی بنیاد بنیں گے، بشرطیکہ بھارت ایسی عالمی معیار کی ٹیکنالوجی تیار کرے جو صرف چند افراد نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے۔


ممبئی میں فکی (FICCI) کی "لیجنڈز سیریز" کے تحت "Winning Through Innovation: Lessons for Industry and Society" کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماشیلکر نے کہا کہ بھارت کو عالمی ٹیکنالوجی کا صرف صارف بننے کے بجائے نئی اور انقلابی ٹیکنالوجی کا خالق بننا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیپ سائنس، مصنوعی ذہانت، حکومت اور نجی شعبے کے مضبوط اشتراک اور اپنے عالمی شہرت یافتہ فلسفے "More from Less for More" کے ذریعے بھارت اختراع میں عالمی قیادت حاصل کر سکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ موجودہ سرکاری خریداری (Procurement) کا نظام، جو صرف سب سے کم قیمت والے بولی دہندہ کو ترجیح دیتا ہے، ملک میں مقامی اختراع اور نئی ٹیکنالوجی کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو صرف خریدار کے بجائے اختراع میں خطرات بانٹنے والا شراکت دار بننا چاہیے تاکہ نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے والے اداروں اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی ہو۔


ڈاکٹر ماشیلکر نے اپنے فلسفہ "More from Less for More" کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت ایسی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز تیار کرنے میں ہے جو کم وسائل استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کی کارکردگی فراہم کریں اور ساتھ ہی عام لوگوں کے لیے سستی اور قابل رسائی ہوں۔ ان کے مطابق اختراع کی کامیابی کا معیار صرف جدید ٹیکنالوجی یا زیادہ قیمت نہیں بلکہ معاشرے کے بڑے مسائل کا وسیع پیمانے پر حل پیش کرنا ہونا چاہیے۔


انہوں نے کہا کہ بھارت نے محدود وسائل کے باوجود کئی عالمی معیار کی اختراعات پیش کی ہیں، جن میں اسمارٹ فون کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے تپ دق (ٹی بی) کی تشخیص، تھرمل امیجنگ سے کم لاگت میں بریسٹ کینسر کی جانچ، ڈیجیٹل زچہ و بچہ صحت پلیٹ فارم اور بغیر خون لیے خون کی کمی (انیمیا) کی تشخیص جیسی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔


ڈاکٹر ماشیلکر نے صنعتوں پر زور دیا کہ وہ صرف عالمی بہترین طریقوں کی پیروی نہ کریں بلکہ نئی "Next Practices" تخلیق کریں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو انسان کا "کو پائلٹ" ہونا چاہیے، "آٹو پائلٹ" نہیں، تاکہ انسانی فیصلے، اخلاقیات اور ہمدردی ہمیشہ ٹیکنالوجی کے مرکز میں رہیں۔


فکی کے سابق صدر اور کنوریا کیمیکلز اینڈ انڈسٹریز لمیٹڈ کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر راج وردھن وی کنوریا نے کہا کہ اختراع اب صرف تحقیقی اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہی بھارت کی اقتصادی ترقی، تکنیکی قیادت اور جامع ترقی کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فکی کے دوسرے سو سال کے سفر میں بھارت کو صرف صنعتی پیداوار نہیں بلکہ دانشورانہ املاک، نئی ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی اختراعات پر توجہ دینی ہوگی۔


فکی ڈرونز کمیٹی کے شریک چیئرمین اور آئیڈیافورج کے شریک بانی و سی ای او انکت مہتا نے کہا کہ ڈاکٹر ماشیلکر کا فلسفہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اصل طاقت چند افراد کے لیے نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت 2047 کے ہدف کے لیے صنعت، جامعات، اسٹارٹ اپس، تحقیقی اداروں اور حکومت کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہوگا۔


فکی لیجنڈز سیریز کے اس اجلاس میں صنعت کاروں، پالیسی سازوں، سائنس دانوں، کاروباری شخصیات، اسٹارٹ اپ بانیوں اور محققین نے شرکت کی، جہاں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عالمی معیار کی، ماحول دوست اور سماجی طور پر جامع ٹیکنالوجیز ہی بھارت کو اختراع کے میدان میں عالمی رہنما بنا سکتی ہیں۔


bottom of page