top of page

یوٹیوب رپورٹر' ہونا صحافی ہونے کے مترادف نہیں : دہلی ہائی کورٹ، عدالت نے کہا اظہارِ رائے کی آزادی کا غلط استعمال قابل قبول نہیں، میڈیا کے لیے جوابدہی اور اخلاقی ضابطہ ضروری

  • Writer: MimTimes मिम टाइम्स  م ٹائمز
    MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز
  • Jul 20
  • 2 min read

20 July 2026


ممبئی(م ٹائمز ) دہلی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ صرف موبائل فون اور مائیک ہاتھ میں لے کر خود کو "رپورٹر" کہنا صحافت نہیں کہلا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ میڈیا کی آزادی جمہوریت کا بنیادی ستون ضرور ہے، لیکن اس آزادی کو غیر ذمہ دارانہ صحافت، دباؤ ڈالنے یا سماج میں کشیدگی پیدا کرنے والے طرزِ عمل کے تحفظ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔


جسٹس گریش کتھپالیا نے عابد علی اور فرقان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے۔ دونوں کے خلاف سال 2025 میں سیماپوری پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ ایک ایسے واقعے سے متعلق ہے جس میں غیر مجاز تعمیرات کی ویڈیو بنانے کا دعویٰ کرنے والے دو یوٹیوب رپورٹرز پر ہجوم کے حملے کا الزام ہے۔


سماعت کے دوران عدالت نے پولیس تفتیش پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی پیش کردہ معلومات اور ویڈیو ریکارڈنگ میں واضح تضاد پایا گیا۔ عدالت نے ملزمان کی شناخت، کردار اور ویڈیو میں موجودگی سے متعلق پولیس کے مؤقف کو غیر مربوط قرار دیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزمان تقریباً ایک سال سے جیل میں ہیں، مگر مقدمے کی باقاعدہ سماعت ابھی تک شروع نہیں ہوئی۔


ہائی کورٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ کے بعد بہت سے لوگ خود ساختہ رپورٹر بن کر شہریوں پر فوری جواب دینے کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ جواب نہ ملنے پر گمراہ کن تاثر پیش کرنا یا غیر مصدقہ اور سنسنی خیز معلومات نشر کرنا معاشرے میں انتشار پیدا کر سکتا ہے۔


عدالت نے زور دیا کہ میڈیا کی آزادی برقرار رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ ذمہ داری، اخلاقی اصولوں اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب قانونی اور ضابطہ جاتی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔


عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر شہری کو کسی سوال کا جواب نہ دینے کا آئینی حق حاصل ہے، اور کسی شخص کی خاموشی کو غلط انداز میں پیش کر کے یہ تاثر دینا کہ وہ سوالات سے فرار اختیار کر رہا ہے، درست نہیں۔ عدالت کے مطابق میڈیا کے پاس رائے عامہ کو متاثر کرنے کی غیر معمولی طاقت ہے، اس لیے اس کا استعمال ذمہ داری، دیانت داری اور غیر جانبداری کے ساتھ ہونا چاہیے۔


اس مقدمے میں چار شریک ملزمان کو پہلے ہی ضمانت مل چکی تھی۔ تفتیش میں پائی گئی خامیوں اور دستیاب شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے عابد علی اور فرقان کو بھی 10 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت دے دی، تاہم واضح کیا کہ اس حکم میں کیے گئے مشاہدات مقدمے کے حتمی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔


bottom of page