top of page

بائیکلہ اور ورلی حلقے میں ادھو اور شندے آمنے سامنے: منوج جام سوتکر بمقابلہ یامنی جادھو،ادتیہ بمقابلہ ملند دیورا مقابلہ ہوگا

  • Writer: MimTimes मिम टाइम्स  م ٹائمز
    MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز
  • Oct 25, 2024
  • 2 min read
ree

25 October 2024


ممبئی: بائیکلہ اسمبلی حلقے میں مہاوکاس اگھاڑی کا جاری تنازعہ حل ہوگیا ہے۔ شیوسینا ٹھاکرے گروپ نے باضابطہ طور پر منوج جام سوتکر کو اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے، جبکہ شندے گروپ کی جانب سے یامنی جادھو پہلے سے ہی اس نشست کے لیے امیدوار ہیں۔ اس نامزدگی کے بعد بائیکلہ اسمبلی سیٹ پر دونوں شیوسینا دھڑوں کا سخت مقابلہ متوقع ہے، جو ایم وی اے کے اتحاد میں ایک نیا موڑ لائے گا۔

ٹھاکرے گروپ کے سینئر رہنما منوج جام سوتکر کو ای بی فارم تھما دیا گیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق وہ پیر کو اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے۔ اس موقع پر منوج جام سوتکر نے ادھو ٹھاکرے اور آدتیہ ٹھاکرے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایم وی اے نے ان پر جو اعتماد کیا ہے، اس کا بھرپور حق ادا کرتے ہوئے بائیکلہ کے عوام کی خدمت کریں گے۔

اسی طرح ورلی اسمبلی سیٹ پر شندے نے ملند دیورا کو امیدوار بنایا ہے اس وجہ سے اب ورلی میں سہ رخی مقابلہ ہوگا۔آدتیہ ٹھاکرے، ملند دیورا اور منسے کے سندیپ دیشپانڈے میدان میں ہیں۔ورلی اسمبلی حلقے میں بھی دلچسپ سیاسی صورتحال دیکھنے کو ملے گی جہاں شیوسینا ٹھاکرے گروپ کی جانب سے آدتیہ ٹھاکرے امیدوار ہیں۔ ان کے مد مقابل شندے گروپ نے ملند دیورا کو میدان میں اتارا ہے، جبکہ مہاراشٹر نونرمان سینا (منسے) کے سندیپ دیشپانڈے بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ اس طرح ورلی میں سہ رخی مقابلے کی توقع ہے، جو انتخابات میں نیا جوش پیدا کرسکتا ہے۔ایم وی اے کی مزید نشستوں پر مذاکرات جاری ہے سنجے راوت نے شرد پوار سے ملاقات کی ہے۔ایم وی اے کی ممبئی میں کچھ نشستوں پر ابھی بھی حتمی فیصلہ باقی ہے۔ شیوسینا ٹھاکرے گروپ کے سینئر رہنما سنجے راوت نے شرد پوار سے ملاقات کرکے نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کی ہے۔ ایم وی اے کے اتحاد میں اس ملاقات کو اہمیت دی جارہی ہے، جس سے مزید سیاسی فیصلوں کا امکان ہے۔

bottom of page