top of page

بھارت کی صنعت کا عظیم ستون رتن ٹاٹا کا انتقال، بریچ کینڈی اسپتال میں آخری سانس لی

  • Writer: MimTimes मिम टाइम्स  م ٹائمز
    MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز
  • Oct 10, 2024
  • 2 min read
ree

بھارت کے مشہور صنعت کار رتن ٹاٹا کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے انتقال کی خبر سے پورے ملک میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ رتن ٹاٹا کی عمر 86 سال تھی۔

رتن ٹاٹا کی زندگی

رتن ٹاٹا 28 دسمبر 1937 کو ممبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق بھارت کے مشہور ٹاٹا خاندان سے تھا، جس نے بھارت میں صنعتوں کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ رتن ٹاٹا کے والد کا نام نووال ٹاٹا اور والدہ کا نام سونوا تھا۔ تاہم، ان کے والدین کی علیحدگی کے بعد، رتن اور ان کے بھائی جمی ٹاٹا کی پرورش ان کی دادی، نووربائی ٹاٹا، نے کی۔



تعلیم اور ابتدائی زندگی

رتن ٹاٹا نے اپنی ابتدائی تعلیم بمبئی میں کی اور بعد ازاں ہارورڈ بزنس اسکول اور کارنیگی میلن یونیورسٹی سے انجینئرنگ اور فن تعمیر کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کے بعد، انہوں نے ٹاٹا گروپ میں بطور ایک عام ملازم کام شروع کیا اور رفتہ رفتہ اپنی محنت اور لگن سے کمپنی میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔

ٹاٹا گروپ کی قیادت

  1991 میں رتن ٹاٹا نے ٹاٹا گروپ کی باگ دوڑ سنبھالی، جو بھارت کا سب سے بڑا صنعتی گروپ ہے۔ انہوں نے اس گروپ کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دینے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے، جن میں سے چند قابل ذکر کامیابیاں یہ ہیں:

ٹاٹا موٹرز

رتن ٹاٹا کے دور میں ٹاٹا موٹرز نے بھارت میں پہلی دفعہ سستی کار "ٹاٹا نانو" متعارف کرائی، جس نے عام آدمی کو کار خریدنے کا موقع دیا۔



بین الاقوامی حصول

انہوں نے ٹاٹا اسٹیل کے ذریعہ کورس گروپ اور ٹاٹا موٹرز کے ذریعہ جاگوار لینڈ روور کے حصول جیسے بڑے سودے کیے، جو بھارت کے لیے عالمی صنعت میں اہم قدم ثابت ہوئے۔

فلاحی کام

رتن ٹاٹا صرف ایک کامیاب صنعت کار ہی نہیں، بلکہ ایک عظیم انسان دوست بھی تھے۔ انہوں نے ٹاٹا ٹرسٹ کے ذریعے صحت، تعلیم اور دیگر فلاحی منصوبوں میں بے شمار رقم خرچ کی۔



سادگی اور انسان دوستی

 رتن ٹاٹا کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی سادگی اور انسان دوستی تھی۔ وہ ہمیشہ عوام کی فلاح کے لئے کام کرتے رہے اور کبھی ذاتی شہرت یا دولت کی پروا نہیں کی۔ وہ میڈیا سے دور رہنے والے اور ایک کم گو شخصیت کے حامل تھے، لیکن ان کی محنت اور فلاحی کاموں نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام دلایا۔



اعزازات اور اعترافات

ان کی کامیابیوں اور خدمات کے اعتراف میں انہیں بھارت کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات، پدم بھوشن (2000) اور پدم وبھوشن (2008) سے نوازا گیا۔

وفات

رتن ٹاٹا کی زندگی کا خاتمہ ایک عظیم شخصیت کے طور پر ہوا، جنہوں نے نہ صرف بھارت بلکہ عالمی صنعتوں میں بھی اپنی چھاپ چھوڑی۔ ان کی وفات بھارت اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، لیکن ان کی یادیں اور خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

bottom of page