دیونار سلاٹر ہاؤس کے باہر بکروں کے داخلے میں تاخیر، بیوپاریوں کا شدید احتجاج، پولیس کی مداخلت سے مسئلہ حل
- MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز

- May 28, 2025
- 2 min read

28 May 2025
ممبئی (خصوصی نمائندہ) عیدالاضحیٰ کی آمد کے پیش نظر دیونار سلاٹر ہاؤس کے باہر اس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی جب قربانی کے بکرے لانے والے بیوپاریوں کو اندر داخل ہونے میں غیرمعمولی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ بکریوں سے لدی گاڑیوں کی لمبی قطاریں کئی کلومیٹر تک پھیل گئیں، جس پر بیوپاریوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سلاٹر ہاؤس کے گیٹ کے باہر ہی احتجاج شروع کر دیا۔مظاہرین نے بکروں کو گاڑیوں سے اتار کر سڑک پر کھڑا کر دیا اور دیونار انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرے بازی کی، جس سے علاقے میں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
See video
آخرکار پولیس کو مداخلت کرنا پڑی، جس کے بعد بیوپاریوں نے اپنا احتجاج وقتی طور پر ختم کر دیا۔بیوپاریوں کا کہنا تھا کہ سلاٹر ہاؤس میں جلد داخل نہ ہونے کی صورت میں انہیں بھاری مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق گاڑیوں میں لاکھوں روپے مالیت کے بکرے موجود ہیں، جو تاخیر کے باعث بیماری یا چوری جیسے خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ کچھ بیوپاریوں نے شکایت کی کہ علاقے کے غنڈے ان سے جبراً پیسے مانگ رہے ہیں، جس سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔اس معاملے پر دیونار سلاٹر ہاؤس کے جنرل منیجر کلیم پٹھان نے وضاحت دی کہ بکروں کی گاڑیاں خالی کرنے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ دلالوں اور گوالوں کے درمیان موجود آپسی رنجشیں ہیں۔ ان کے مطابق ہر بیوپاری اپنے جانوروں کے لیے بڑی اور اچھی جگہ کا مطالبہ کر رہا ہے، جو قربانی کے سیزن میں ممکن نہیں۔کلیم پٹھان کے مطابق، اب تک تقریباً 800 گاڑیاں خالی کی جا چکی ہیں اور 70 سے 80 ہزار بکرے دیونار میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم، بکروں کی خریداری میں سستی دیکھی جا رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ جاری بارش کو قرار دیا جا رہا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دیونار کی مختلف تنظیموں سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ حالات قابو میں رہیں اور قربانی کی تیاریوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔









