مہاراشٹر حکومت کا وی آئی پی فضائی سفر پر بڑا فیصلہ، نجی ایوی ایشن کمپنیوں کی تقرری، اچانک دوروں کے لیے دو سالہ معاہدہ، جہاز اور ہیلی کاپٹر کے فی گھنٹہ کرائے اور شرائط طے
- MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز

- 45 minutes ago
- 2 min read

09 February 2026
ممبئی (م ٹائمز )
حکومتِ مہاراشٹر نے ایم پی اور دیگر وی آئی پی شخصیات کے فضائی سفر کے لیے کرائے پر جہاز اور ہیلی کاپٹر فراہم کرنے سے متعلق ایک اہم سرکاری فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ریاست کی اہم شخصیات کے اچانک طے ہونے والے دوروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائی ایوی ایشن اور ایرو ایئر کرافٹ سیلز اینڈ چارٹر پرائیویٹ لمیٹڈ کو منتخب کیا گیا ہے۔ ان دونوں ایجنسیوں کا انتخاب کم ترین نرخوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
سرکاری فیصلے کے مطابق یہ معاہدہ دو سال کی مدت کے لیے ہوگا، جس کا اطلاق معاہدے پر دستخط کی تاریخ سے شمار کیا جائے گا۔ حکومتِ مہاراشٹر نے ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف ایوی ایشن، ممبئی کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان منتخب کمپنیوں کے ساتھ باضابطہ معاہدہ عمل میں لائیں۔
اس فیصلے کے ساتھ منسلک ضمیمہ میں مختلف اقسام کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے فی گھنٹہ کرایے اور کم از کم پرواز کے اوقات کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ درمیانے درجے کے طیاروں میں چیلنجر 850 کا فی گھنٹہ کرایہ 6 لاکھ 30 ہزار روپے، فالکن 7 ایکس اور 8 ایکس کا 8 لاکھ 90 ہزار روپے جبکہ ہاکر 850 اور 900 کا کرایہ 3 لاکھ 65 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ہلکے طیاروں میں سی جے ٹو کا کرایہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے اور سیٹیشن ٹو کا 2 لاکھ 20 ہزار روپے فی گھنٹہ طے کیا گیا ہے۔ ٹربو پروپ طیاروں میں بی 200 ٹربو پروپ کا کرایہ 1 لاکھ 45 ہزار روپے اور سی 90 کا 1 لاکھ 25 ہزار روپے فی گھنٹہ رکھا گیا ہے۔ ان تمام طیاروں کے لیے کم از کم پرواز کا وقت ڈھائی گھنٹے مقرر ہے۔
ہیلی کاپٹروں کے کرایوں میں بیل 412 کا فی گھنٹہ کرایہ 3 لاکھ 80 ہزار روپے، اے ایس 350 بی ٹو کا 1 لاکھ 25 ہزار روپے، بیل 407 کا 1 لاکھ روپے اور اے ڈبلیو 119 کا 1 لاکھ 30 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ تمام ہیلی کاپٹروں کے لیے کم از کم پرواز کا وقت دو گھنٹے طے کیا گیا ہے۔
سرکاری فیصلے میں منسوخی کے ضوابط بھی واضح کیے گئے ہیں۔ اگر پرواز سے 24 گھنٹے پہلے بکنگ منسوخ کی جائے تو کوئی چارج عائد نہیں ہوگا، جبکہ پرواز سے 6 سے 12 گھنٹے قبل منسوخی کی صورت میں 50 فیصد اور 6 گھنٹے سے کم وقت پر منسوخی کی صورت میں مکمل یعنی 100 فیصد چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ سروس ٹیکس، لینڈنگ چارجز، پارکنگ اور گراؤنڈ ہینڈلنگ جیسے اضافی اخراجات اصل بل کے مطابق ادا کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ چیف سیکرٹری کی سربراہی میں قائم بااختیار کمیٹی کے 20 اگست 2024 کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں جاری کیا گیا ہے۔









