top of page

مُفلس کون ؟

  • Writer: MimTimes मिम टाइम्स  م ٹائمز
    MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز
  • Jan 25
  • 2 min read
ree

25 January 2025


زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر کا اختتام قیامت کے دن ہوگا۔ قیامت، وہ دن جب ہر انسان اپنے اعمال، نیتوں، اور کردار کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا۔ اس دن نیکیوں اور بدیوں کا توازن ہوگا، اور ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے اعمال کے مطابق جواب دینا ہوگا۔ یہ دن صرف حقوق اللہ کا نہیں بلکہ حقوق العباد کا بھی سوال کرنے والا ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے رویے اور عمل کا پورا جواب دینا ہوگا۔     حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ایک ایسا شخص ہوگا، جس کی نیکیاں احد پہاڑ کے برابر ہوں گی۔ وہ شخص عبادات کے تمام فرائض ادا کرے گا، جیسے نماز، روزہ اور زکوٰۃ، مگر وہ مفلس بن کر اللہ کے سامنے آئے گا۔یہ مفلس کیوں ہوگا؟ کیونکہ اس نے اپنی عبادات کے ساتھ ساتھ دوسروں کے ساتھ صحیح رویہ نہیں اپنایا تھا۔ اس نے لوگوں کو گالیاں دیں، ان پر ظلم کیا، ان کا مال ناحق کھایا، اور خون بہایا۔ جب مظلوم قیامت کے دن اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے، تو اس کی نیکیاں ان کو دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں، تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، اور وہ جہنم میں جائے گا۔    اسی طرح، دوسری حدیث میں بھی اسی نکتے کو سمجھایا گیا ہے کہ ایک ایسا شخص جو نماز، روزہ، اور زکوٰۃ کے ساتھ آئے گا، مگر اس نے لوگوں سے زیادتی کی ہوگی، اسے بھی جہنم کے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم ہوں گی، اور جب وہ ختم ہوں گی، تو اس پر مظلوم کے گناہ ڈال دیے جائیں گے۔     یہ دونوں حدیثیں ہمیں یہ اہم سبق دیتی ہیں کہ قیامت کے دن ہماری عبادات صرف اس وقت تک فائدہ مند نہیں ہوں گی جب تک ہم دوسروں کے حقوق کی مکمل ادائیگی نہ کریں ۔ نیکی کا اصل حسن صرف اللہ کے سامنے نماز اور روزہ نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ ہمارا رویہ بھی ہے۔ اگر ہمارے اخلاق درست نہیں، اور ہم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، تو ہماری ساری نیکیاں ضائع ہو سکتی ہیں۔    ہمیں اپنی زندگی میں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا ہم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو ہمیں اپنے لیے پسند ہے؟ کیا ہم اپنی عبادات کے ساتھ دوسروں کے حقوق کو بھی مقدم رکھتے ہیں؟ قیامت کے دن ہر ظلم بے نقاب ہوگا، اور ہر مظلوم کا حق واپس دیا جائے گا۔    دنیا میں اصلاح کیجیے، دوسروں سے معافی طلب کیجیے، اور ان کے حقوق ادا کیجیے تاکہ قیامت کے دن ہمیں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ ہمیں وہ توفیق دے کہ ہم اپنے کردار کو سنواریں اور نجات کے لیے حقیقی اعمال کریں۔ آمین۔

تحریر: آصف خان

دھامن گاؤں بڑے

9405932295

bottom of page