موبائل فون کے ذریعے سمن بھیجنا پولیس کو مہنگا پڑ گیا، عدالت نے 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا
- MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز

- Jan 21
- 2 min read

21 January 2026
ممبئی(م ٹائمز ) ناگپور کی ایک خصوصی عدالت نے پولیس کی جانب سے قانونی طریقۂ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے موبائل فون کے ذریعے گواہوں کو سمن بھیجنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ پولیس اہلکار پر 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج اجے اے کلکرنی کی عدالت میں ایک کیس کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ پولیس نے گواہوں گنجال پربھاکر کھرابے اور دنیشور سیتارام منڈے کو باقاعدہ قانونی سمن جاری کرنے کے بجائے موبائل فون کے ذریعے پیشی کی اطلاع دی تھی۔ اس غیر رسمی طریقۂ کار کے باعث گواہ عدالت میں حاضر نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں مقدمے کی کارروائی میں تاخیر ہوئی اور عدالتی وقت ضائع ہوا۔
عدالت نے اپنے حکم میں واضح طور پر کہا کہ موبائل فون کے ذریعے سمن بھیجنا قانوناً تسلیم شدہ طریقہ نہیں ہے اور اس طرح کی لاپرواہی عدالتی نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ عدالت نے لکڑ گنج پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ پولیس اہلکار سے 5 ہزار روپے جرمانہ وصول کر کے اگلی سماعت تک عدالت میں جمع کرائیں۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس کو آئندہ تمام معاملات میں سمن کی تعمیل قانونی طریقے سے کرنے اور اس کی باقاعدہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے اس حکم نامے کی ایک نقل پولیس کمشنر ناگپور کو بھی ارسال کی گئی ہے تاکہ اس معاملے میں ضروری انتظامی کارروائی کی جا سکے۔
عدالت کے اس فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ عدالتی امور میں کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا غیر قانونی طریقۂ کار کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔









