مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی ضابطۂ اخلاق نافذ ریاستی الیکشن کمیشن کا متحدہ حکم نامہ جاری، سختی سے عمل درآمد کی ہدایت
- MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز

- Nov 4, 2025
- 3 min read

4 November 2025
ممبئی (م ٹائمز ) مہاراشٹر ریاستی الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات 2025 کے پیشِ نظر نیا اور ترمیم شدہ انتخابی ضابطۂ اخلاق (Model Code of Conduct) جاری کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 14 اکتوبر 2016 کو جاری پرانے احکامات منسوخ کردیے گئے ہیں۔ نئے ضابطۂ اخلاق کا مقصد یہ ہے کہ انتخابات پُرامن، منصفانہ، شفاف اور خوف و دباؤ سے آزاد ماحول میں منعقد ہوں اور کسی بھی سرکاری عہدے یا مشینری کا ناجائز استعمال نہ ہو۔
یہ ضابطۂ اخلاق بلدیاتی اداروں جیسے میونسپل کارپوریشن، میونسپل کونسل، نگر پنچایت، ضلع پریشد، پنچایت سمیتی اور گرام پنچایت کے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی نافذ ہوگا۔ انتخابی حدود سے باہر ووٹروں پر اثر انداز ہونے والی تقاریب یا پروگرام منعقد کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ضابطۂ اخلاق انتخابات کے اعلان سے لے کر ووٹوں کی گنتی کے نتائج کے اعلان تک نافذ العمل رہے گا۔
see pdf
الیکشن کمیشن کے مطابق ضابطۂ اخلاق کا نفاذ دو مرحلوں میں ہوگا۔ پہلے مرحلے میں، یعنی انتخابات کے اعلان سے نامزدگی داخل کرنے کے آخری دن سے پہلے تک، حکومت کو کوئی بھی پالیسی فیصلہ کرنے کے لیے الیکشن کمیشن سے پیشگی اجازت لینی ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں، یعنی نامزدگی داخل کرنے کے آغاز کے بعد، کسی بھی نئی پالیسی یا اسکیم کا فیصلہ یا اس سے متعلق کوئی تجویز بھیجنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ البتہ انتخابات کے اعلان کے وقت جو کام جاری ہوں گے، وہ جاری رکھے جاسکیں گے۔
تشہیر بندی (پروپیگنڈا پر پابندی) کی مدت مختلف بلدیاتی اداروں کے لیے الگ رکھی گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن اور گرام پنچایت انتخابات کے لیے ووٹنگ ختم ہونے سے 48 گھنٹے قبل تشہیر پر پابندی ہوگی، جبکہ میونسپل کونسل، نگر پنچایت، ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہونے سے 24 گھنٹے پہلے تشہیر بند کرنا لازمی ہوگا۔ رات گئے جلسوں، ریلیوں یا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔
ضابطۂ اخلاق کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کو مذہبی، لسانی یا سماجی بنیادوں پر نفرت، تفرقہ یا کشیدگی پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مذہب، ذات یا فرقہ کی بنیاد پر ووٹ مانگنا، یا عبادت گاہوں کو انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ ووٹروں کو رشوت دینا، اشیاء یا شراب کی تقسیم، یا سوشل میڈیا کے ذریعے لالچ دینا بھی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی شمار ہوگی۔
سیاسی شخصیات مذہبی یا تہواروں کے پروگراموں میں ذاتی حیثیت سے شریک ہوسکتی ہیں، لیکن امیدواروں کے استقبالیے، تحفے کی تقسیم یا انتخابی تشہیر کے طور پر کسی بھی تقریب کا اہتمام کرنے پر پابندی ہوگی۔ تہواروں کے بینرز پر امیدوار کا نام اور تصویر شامل ہوسکتی ہے مگر پارٹی کا نام، انتخابی نشان یا کوئی بھی تشہیری نعرہ درج نہیں کیا جاسکتا۔ ضابطۂ اخلاق کے دوران دعوتِ طعام یا اجتماعی کھانے کے پروگرام منعقد کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
جرائم پیشہ پس منظر رکھنے والے افراد کو پولنگ ایجنٹ کے طور پر مقرر کرنے کی ممانعت ہے، جبکہ سکیورٹی کور حاصل کرنے والے افراد کو بھی انتخابی یا ووٹ شماری نمائندہ بننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ معروف (Star) مہم چلانے والوں کے معاملے میں صرف ان کے سفر کا خرچ امیدوار کے اخراجات میں شامل نہیں کیا جائے گا، تاہم کوئی امیدوار اپنے ہی حلقے میں خود کو مرکزی مہم چلانے والا قرار نہیں دے سکے گا۔
ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں ضلع کلیکٹر، میونسپل کمشنر یا متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ سیاسی جماعت، امیدوار یا دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف Reprimand، Censure یا Condemnation جاری کریں، اور ضرورت پڑنے پر Indian Justice Code 2023 یا Maharashtra Property Defacement Act 1995 کے تحت فوجداری کارروائی کریں۔
ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کی ذمہ داری ضلع کلیکٹر اور میونسپل کمشنر پر ہوگی۔ کسی بھی ابہام یا غیر واضح صورتحال میں بھارت کے الیکشن کمیشن کی ہدایات یا ریاستی الیکشن کمیشن سے رہنمائی حاصل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
#MaharashtraElection2025 #ModelCodeOfConduct #StateElectionCommission #LocalBodyPolls #MumbaiNews #ElectionRules #PoliticalCode #SECOrders #MunicipalElections #PanchayatPolls









