top of page

کمشنر کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر!

  • Writer: MimTimes मिम टाइम्स  م ٹائمز
    MimTimes मिम टाइम्स م ٹائمز
  • 2 days ago
  • 5 min read

30 March 2026


ایشیا کی سب سے بڑی اور امیر میونسپل کارپوریشن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کمشنر بھوشن گگرانی منگل، 31 مارچ کو سبکدوش ہو رہے ہیں۔


بھوشن گگرانی اپریل 2024 میں منعقد ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل میونسپل کمشنر کے طور پر تعینات ہوئے تھے۔ اس طرح انہیں محض دو سال تک اس عہدے پر کام کرنے کا موقع ملا، وہ بھی ایسے وقت میں جب بلدیہ میں کوئی عوامی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ اسی وجہ سے ان کی یہ دو سالہ مدت بغیر کسی بڑے بحران یا پیچیدگی کے نسبتاً آسانی سے مکمل ہوئی، جسے ایک خاص بات قرار دیا جا سکتا ہے۔


بھوشن گگرانی نے مالی سال 2025-26 اور 2026-27 کے بجٹ پیش کیے۔ 2025-26 کا بجٹ انہوں نے خود پیش کیا، خود ہی منظور کیا اور اسی کی نگرانی میں خرچ بھی کیا۔ چونکہ بلدیہ میں کارپوریٹر موجود نہیں تھے، اس لیے نہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں اس پر کوئی بحث ہوئی اور نہ ہی جنرل باڈی میں۔ کارپوریٹروں کی جانب سے اعتراضات یا تجاویز پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح بجٹ میں ترمیم کرکے مختلف وارڈز کو اضافی فنڈ دینے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔


دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران بلدیاتی انتخابات بھی ان کی قیادت میں بغیر کسی تنازع کے پُرامن طریقے سے منعقد ہوئے۔ اس کے بعد ہر سال 5 فروری تک پیش کیے جانے والے بجٹ کو انہوں نے 25 فروری 2026 کو عوامی نمائندوں کے سامنے پیش کیا۔ فی الحال اسٹینڈنگ کمیٹی میں اس بجٹ پر بحث جاری ہے، لیکن اسی دوران بھوشن گگرانی ریٹائر ہو رہے ہیں۔


ابھی تک جنرل باڈی میں بجٹ پر بحث ہونا باقی ہے۔ اس کے بعد کارپوریٹرز کی جانب سے دی گئی تجاویز اور تنقید پر وضاحت دینا بھی ضروری ہوتا ہے، لیکن اب یہ ذمہ داری ان پر نہیں آئے گی۔ اس طرح اگرچہ انہوں نے بجٹ تیار کیا، مگر اس کے نفاذ اور اس پر جوابدہی کی ذمہ داری سے وہ آزاد ہو گئے ہیں۔


اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کا پیش کردہ بجٹ روایتی انداز میں کچھ حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، جبکہ متوقع آمدنی جمع کرنا آئندہ کمشنر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس امیر میونسپل کارپوریشن کی مالی حالت میں کچھ کمزوری پیدا ہو رہی ہے۔ اس لیے اس بجٹ پر عملدرآمد اور منتخب نمائندوں کی تنقید کا سامنا کرنے کی ذمہ داری اب ان کے پاس نہیں رہے گی۔


مختصراً یہ کہ ممبئی جیسے ریاستی اور قومی سطح پر اہم شہر کی قیادت کا موقع انہیں دو سال کے لیے ملا، جو بذاتِ خود ایک بڑی بات ہے۔


الیکشن کمیشن کی بالا دستی


بھوشن گگرانی 1990 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور انہوں نے 24 مارچ 2024 سے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے یہ عہدہ سابق کمشنر اقبال سنگھ چہل سے سنبھالا، جو مئی 2020 سے مارچ 2024 تک اس عہدے پر فائز رہے۔


ریٹائرمنٹ کے بعد اقبال سنگھ چہل کو ممبئی پولیس ہاؤسنگ پروجیکٹ کا چیئرمین مقرر کیا گیا اور انہیں وزیرِ مملکت کا درجہ بھی دیا گیا۔ انہوں نے یکم فروری 2026 کو اس عہدے کا چارج سنبھالا اور آئندہ پانچ برس تک وہ اس ذمہ داری پر فائز رہیں گے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ بھوشن گگرانی کو بھی ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی اہم ذمہ داری سونپی جائے۔


تاہم یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ بھوشن گگرانی کو کم از کم دو سال تک کمشنر کے طور پر کام کرنے کا موقع صرف اور صرف الیکشن کمیشن آف انڈیا کی مداخلت کی وجہ سے ملا۔


2024 کے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے ہدایت دی تھی کہ تین سال سے زائد عرصہ ایک ہی مقام پر تعینات آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کا تبادلہ کیا جائے۔ مگر انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے باوجود کسی افسر کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔


اس وقت ممبئی میونسپل کارپوریشن میں کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کے طور پر خدمات انجام دینے والے اقبال سنگھ چہل، اضافی کمشنر پی۔ ویلاراسو اور اضافی کمشنر اشونی بھیڑے تینوں ہی چار سال سے زائد عرصہ ایک ہی جگہ تعینات تھے، اس لیے ان کا تبادلہ ضروری تھا۔


اس کے باوجود اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ان تبادلوں کو روکنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا، مگر اس وقت کے چیف الیکشن افسر شریکانت دیشپانڈے نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد ایک حیران کن پیش رفت میں مرکزی الیکشن کمیشن نے خود شریکانت دیشپانڈے کا تبادلہ کر دیا۔


بعد ازاں نئے چیف الیکشن افسر ایس چوکالنگم نے ریاستی حکومت کو تیسری بار یاددہانی کرائی اور بالآخر الیکشن کمیشن کو خود مداخلت کرکے ان افسران کے تبادلوں کا حکم دینا پڑا، جس کے بعد حکومت نے ناچار ہو کر تبادلے کیے۔


اگر الیکشن کمیشن اس معاملے میں سختی نہ دکھاتا تو اقبال سنگھ چہل کا تبادلہ نہ ہوتا اور بھوشن گگرانی کو کمشنر بننے کا موقع بھی نہ ملتا۔


سیاسی مداخلت اور بیوروکریسی


بھوشن گگرانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد کئی سینئر افسران کے نام زیرِ غور ہیں، لیکن آخرکار فیصلہ حکومت کی پسند پر ہی ہوگا۔ یہی وہ غلط روایت ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جا رہی ہے، جہاں سینیارٹی کے بجائے سیاسی پسند و ناپسند کو ترجیح دی جاتی ہے۔


اس کے نتیجے میں:


• غیر پسندیدہ افسران کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے


• افسران حکمرانوں کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوتے ہیں


• قوانین کو نظر انداز کرکے فیصلے کیے جاتے ہیں


گزشتہ چار برسوں میں بلدیہ میں اگرچہ انتظامی راج تھا، مگر عملی طور پر تمام فیصلے حکومت کی مرضی سے کیے جا رہے تھے۔ ترقیاتی منصوبے بھی حکومت کے اشارے پر ہی شامل کیے جاتے تھے۔


الزام یہ بھی ہے کہ ترقیاتی فنڈ صرف حکمران اتحاد کے اراکین اسمبلی کو دیا گیا، جبکہ اپوزیشن کے حلقوں کو نظر انداز کیا گیا، جو کہ غیر منصفانہ اور غیر قانونی عمل ہے۔ اگر فنڈ دینا تھا تو تمام نمائندوں کو یکساں طور پر دیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ کسی ایک سیاسی گروہ کو ترجیح دے کر۔


آخری کلمات


بھوشن گگرانی کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی کئی افسران اہم عہدے کے حصول کے لیے سرگرم ہوں گے، لیکن بالآخر وہی شخص منتخب ہوگا جو حکمرانوں کی نظر میں پسندیدہ ہوگا۔


ماضی میں کئی میونسپل کمشنر بعد میں ریاست کے چیف سیکریٹری بنے ہیں، مگر اس کے لیے بھی سیاسی حمایت یا مخصوص حالات کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھوشن گگرانی اس معیار پر پورے نہیں اتر سکے۔


ایسی مثالیں ماضی میں بھی دیکھی گئی ہیں، جہاں اصول پسند اور قانون کی پاسداری کرنے والے افسران محض اس لیے اعلیٰ عہدوں تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ انہوں نے اپنی خودداری اور دیانتداری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

✍️ تحریر: سینئر صحافی سنیل شندے




















bottom of page